حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ کے ساتھ خصوصی گفتگو میں "محققِ نمونہ 2025ء" کے اعزاز سے سرفراز حجۃ الاسلام شیخ سجاد حسین مفتی نے اپنی علمی و تحقیقی خدمات، تصانیف اور آئندہ منصوبوں پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ جسے قسط وار حوزہ نیوز کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:
"قرآنی قاعدہ" کی تالیف کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
انہوں نے اپنی گفتگو کے آغاز میں کہا: میری پہلی تصنیف "قرآنی قاعدہ" ہے، جس کی تالیف کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مروجہ قرآنی قواعد کی اکثر کتابوں میں تدریسی ترتیب منطقی نہیں تھی اور مثالیں بھی فرضی ہوتی تھیں۔ میں نے اس کتاب میں تمام مثالیں براہ راست قرآن کریم سے منتخب کی ہیں تاکہ طالب علم ابتدا ہی سے قرآنی الفاظ کے ذریعے مشق کرے اور اس کی عملی استعداد میں اضافہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا: اس کتاب کو انتہائی آسان، تدریجی اور عام فہم انداز میں مرتب کیا گیا ہے، جبکہ مشقوں میں بھی قرآنی الفاظ ہی استعمال کیے گئے ہیں تاکہ تعلیم اور عملی تمرین ایک ساتھ انجام پائیں۔

"قرآنی قاعدہ" کی نمایاں خصوصیات
حجۃ الاسلام شیخ سجاد حسین مفتی نے کہا: اس کتاب کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اگر طالب علم اسے درست انداز میں پڑھ لے یا استاد اسی کے مطابق تدریس کرے تو قرآن کریم کے صرف ایک پارے کی مشق کے بعد عموماً الگ سے روخوانی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
انہوں نے بتایا کہ کتاب کی اشاعت سے قبل اسے عملی طور پر بچوں اور منتخب طلبہ پر آزمایا گیا، جس کے نہایت حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔ بعد ازاں اسے شائع کیا گیا اور اب تک اس کے تین ایڈیشن منظر عام پر آ چکے ہیں۔ دوسرے اور تیسرے ایڈیشن میں تدریسی تجربات کی روشنی میں تقریباً چالیس فیصد اصلاحات اور بہتری بھی کی گئی۔

"قرآنی دستورِ حیات"؛ قرآن فہمی کا تدریجی نصاب
شیخ سجاد حسین مفتی نے اپنی دوسری اہم تصنیف "قرآنی دستورِ حیات" کے بارے میں بتایا کہ یہ تین جلدوں پر مشتمل ایک جامع نصاب ہے، جس کی بنیاد قرآن فہمی کے تدریجی اور منظم تصور پر رکھی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے کی پہلی جلد ایسے افراد کے لیے تیار کی گئی ہے جو ابھی قرآن کریم کی روخوانی، ترجمہ اور تفسیر سے مکمل آشنا نہیں ہیں۔ اس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق تقریباً ڈیڑھ سو منتخب قرآنی آیات اور ان کے ساتھ اہل بیت علیہم السلام سے منقول مناسب احادیث شامل کی گئی ہیں تاکہ قاری قرآن اور تفسیر دونوں سے یکساں استفادہ کر سکے۔
ان کے مطابق پہلے مرحلے کی دوسری جلد میں انہی آیات کو موضوعاتی ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جہاں ہر سبق میں عنوان، متعلقہ آیت، ترجمہ اور مختصر خلاصہ شامل ہے تاکہ طالب علم زندگی کے مختلف موضوعات پر قرآن کریم کے نقطۂ نظر سے آشنا ہو سکے۔
انہوں نے بتایا کہ "قرآنی دستورِ حیات، مرحلہ دوم" دراصل استاد ہاشم حریثی کی معروف کتاب "فرہنگِ قرآن" کا ترجمہ اور تدوین ہے، جو تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس میں انفرادی تربیت، شخصیت سازی، اجتماعی زندگی، معاشرتی مسائل، خاندان، تعلیم، دفاع اور دیگر اہم موضوعات کو قرآنی آیات، تراجم، تفسیری نکات اور اہم الفاظ کی وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
شیخ سجاد حسین مفتی نے کہا: ان کے تجربے کے مطابق جو طالب علم اس نصاب کا باقاعدہ مطالعہ مکمل کر لیتا ہے، وہ قرآن کریم کے بیشتر الفاظ اور تراکیب کے مفاہیم سے آشنا ہو جاتا ہے، زندگی کے اہم انفرادی و اجتماعی موضوعات پر قرآن کے نقطۂ نظر کو سمجھ لیتا ہے اور موضوعاتی تفسیر کے مطالعے کی بنیادی صلاحیت بھی حاصل کر لیتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس مجموعے کی پہلی دو جلدوں کا ترجمہ انہوں نے خود انجام دیا جبکہ تیسری جلد کا ترجمہ حجۃ الاسلام شیخ محمد علی توحیدی نے کیا ہے۔

"عقائدِ امامیہ" کی تدوین کا مقصد
انہوں نے کہا: ہمارے ہاں عقائد کے موضوع پر موجود بیشتر درسی کتابوں میں بعض اہم پہلو نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر توحید کے عملی تقاضوں، جیسے امت سازی، معاشرہ سازی اور اجتماعی ذمہ داریوں پر کم گفتگو کی جاتی ہے۔ اسی طرح عصمت کے باب میں صرف چودہ معصومین علیہم السلام کا ذکر کیا جاتا ہے، جبکہ انبیائے کرام علیہم السلام، ملائکہ اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کی عصمت پر بھی مناسب انداز میں روشنی ڈالنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا: انہی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے "عقائدِ امامیہ" کے عنوان سے تین کتابیں مرتب کی گئیں۔ پہلی جلد میں بنیادی عقائد کو نہایت آسان اور عام فہم انداز میں عملی زندگی سے مربوط کرکے پیش کیا گیا ہے، دوسری جلد میں انہی مباحث کو استدلال اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، جبکہ تیسری جلد آیت اللہ سبحانی کی معروف کتاب "150 دروسِ عقائد" کا خلاصہ ہے، جسے آسان اور مختصر انداز میں مرتب کیا گیا ہے۔
شیخ سجاد حسین مفتی نے بتایا کہ اس کتاب میں انہوں نے ایک مستقل باب بھی شامل کیا ہے، جس میں شیعہ مکتب فکر اور دیگر اسلامی مکاتب فکر کے درمیان تقریباً بائیس بنیادی امتیازات کو علمی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
سیرتِ اہل بیتؑ کا عملی پہلو
انہوں نے اپنی تصنیف "سیرتِ معصومینؑ" کے بارے میں کہا کہ سیرت پر لکھی جانے والی اکثر کتابوں میں فضائل و مناقب تو بیان کیے جاتے ہیں، لیکن ان کے عملی اور قابلِ اقتدا پہلو نسبتاً کم نمایاں ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا: میری کوشش رہی ہے کہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی حیاتِ طیبہ کے ان پہلوؤں کو جمع کیا جائے جن پر تمام مسلمان اتفاق کر سکتے ہیں، نیز قرآن کریم اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں سیرتِ اہل بیت علیہم السلام کی حجیت کو بھی واضح کیا جائے، کیونکہ اہل بیت علیہم السلام کی سیرت درحقیقت قرآن و سنت کی عملی تفسیر ہے۔
"علی شناسی بزبانِ علی" کی انفرادیت
شیخ سجاد حسین مفتی نے بتایا کہ "علی شناسی بزبانِ علی" نہج البلاغہ سے منتخب خطبات، خطوط اور حکمتوں کا ایک موضوعاتی انتخاب ہے۔
انہوں نے کہا: اس کتاب کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کا تعارف دوسروں کے اقوال سے نہیں بلکہ خود حضرت علی علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں کرایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کتاب میں عربی متن، اردو ترجمہ، موضوعاتی عناوین اور مفتی جعفر حسینؒ کے توضیحی حواشی بھی شامل کیے گئے ہیں، تاکہ قارئین نہج البلاغہ کے ذریعے حضرت علی علیہ السلام کی جامع شخصیت سے بہتر انداز میں آشنا ہو سکیں۔

"قرآن کا معاشی نظام"
حجۃ الاسلام شیخ سجاد حسین مفتی نے بتایا کہ "قرآن کا معاشی نظام" قرآنی موضوعات پر مشتمل ایک علمی سلسلے کی کڑی ہے، جس میں قرآن کریم کی معاشی تعلیمات اور اقتصادی اصولوں کو موضوعاتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے کا آغاز قرآنی اصطلاحات اور اہم الفاظ کی تشریح سے ہوا، لیکن بعد میں محسوس ہوا کہ قرآن کریم کے بنیادی موضوعات پر مستقل علمی مباحث کی ضرورت ہے، چنانچہ "مضامینِ قرآن" کے عنوان سے ایک مستقل سلسلہ مرتب کیا گیا۔
ان کے مطابق اس سلسلے میں انسان شناسی، ذرائع معرفت، موانع معرفت، خدا شناسی، توحید، عدل، نبوت، وحی، تدوینِ قرآن، انبیائے کرام علیہم السلام کی ذمہ داریاں اور دیگر اہم موضوعات کو علمی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جبکہ "قرآن کا معاشی نظام" بھی اسی سلسلے کی ایک اہم تصنیف ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ کتاب ان کے ایک مرحوم دوست کے ایصالِ ثواب کے لیے ان کے ورثا کے تعاون سے شائع ہوئی، جسے وہ ایک علمی خدمت کے ساتھ ساتھ صدقۂ جاریہ بھی سمجھتے ہیں۔
جاری ہے۔۔۔ (قسط دوم اور آخری قسط میں:: "حرمِ امام علی علیہ السلام میں ایک مراقبہ"، "روحِ توحید"، "قیامِ امام حسین علیہ السلام: اہداف و پس منظر" اور "مہدی موعود"، غیر مطبوعہ تصانیف، آئندہ علمی منصوبے، نہضتِ حسینی پر جاری تحقیق اور معاشرے میں مطالعے کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر گفتگو شائع کی جائے گی۔)









آپ کا تبصرہ